ڈاکٹر مبارک علی کی یہ کتاب تاریخ کے ایک ایسے پہلو پر روشنی ڈالتی ہے جس نے صدیوں تک انسانی سماج کو جکڑے رکھا: غلامی کا نظام اور نسل پرستی کا رویہ۔
کتاب میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح مختلف تہذیبوں اور سلطنتوں میں غلامی کو ایک سماجی اور معاشی ادارے کے طور پر قبول کیا گیا۔ افریقہ سے لے کر ایشیا اور یورپ تک غلامی کے مختلف پہلوؤں کو تاریخی حوالوں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔
مزید برآں، مصنف نے یہ بھی وضاحت کی ہے کہ غلامی کے خاتمے کے بعد بھی نسلی امتیاز کی شکل میں غلامی کی روح باقی رہی۔ خاص طور پر یورپی نوآبادیاتی دور میں، جب سفید فام برتری کے نظریے نے رنگ اور نسل کی بنیاد پر انسانوں کو کمتر اور برتر طبقوں میں بانٹ دیا۔
یہ کتاب اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ غلامی اور نسل پرستی صرف ماضی کے مسائل نہیں بلکہ آج بھی مختلف شکلوں میں دنیا کے کئی حصوں میں موجود ہیں۔
کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کتاب کا بھی تھیم وار خلاصہ تیار کروں، مثلاً: غلامی کی تاریخ، غلاموں کی زندگی، آزادی کی تحریکیں، اور نسل پرستی کے اثرات؟